Monday, March 15, 2010

تم اب یہاں‌نہ آیا کرو

کوئی بات نہیں ہوئی

اور اتنی باتیں‌ہو گئیں

اس کو جی بھر کے دیکھا بھی نہیں

اور اتنی نگاہیں ڈسنے لگیں

نہ کوئی پھول دیا

نہ کتاب کا تحفہ لیا

!مگر یہ کیا

سارے جگ میں‌رسوائی ہونے لگی

تم جب آتی ہو

دل کا نقشہ بدل جاتا ہے

اچھا تو بہت لگتا ہے

پھر بھی

تم اب یہاں‌نہ آیا کرو

No comments:

Post a Comment